10 رمضان: ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

حضرت خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون تھیں جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ وہ حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے ’طاہرہ‘ کے لقب سے مشہور تھیں۔ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامان تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔

حضرت خدیجہؓ اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور انہیں ام المومنین اول ہونے کی سعادت حاصل تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولادیں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پیدا ہوئی اور صرف ابراہیم ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑوں کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں۔